تین یرغمال ہندوستانی انجینئرس 11 طالبان کے بدلے رہا

شناختوں کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ امریکی قاصد خلیل زاد کی طالبان سے بات چیت کے بعد دونوں طرف رہائی

اسلام آباد ، 7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) افغان طالبان نے کہا ہے کہ اس نے تین ہندوستانی انجینئرس کو آزاد کردیا ہے جنھیں زائد ایک سال سے یرغمال بناکر رکھا گیا تھا۔ یہ رہائی اس کے 11 ارکان کو چھوڑدینے کے عوض میں طے پائی، جن میں عسکری گروپ کے بعض اعلیٰ رتبہ کے عہدیدار شامل ہیں۔ پیر کو میڈیا رپورٹس کے مطابق شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے دو طالبان عہدیداروں نے یہ کہنے سے انکار کیا کہ عسکری گروپ نے کن قیدیوں کے ساتھ یرغمالیوں کی آزادی کا تبادلہ کیا ہے اور آیا آزاد کردہ طالبان ارکان افغان حکام کے قبضے میں ہیں یا افغانستان میں موجود امریکی فورسیس کے پاس؟ اکسپریس ٹربیون کی رپورٹ نے کہا کہ اسوسی ایٹیڈ پریس نے اطلاع دی کہ 11 عسکریت پسندوں کو افغان جیلوں سے رہا کیا گیا ہے۔ اخبار نے طالبان عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ اتوار کو ہوا لیکن اس نے مقام کا انکشاف نہیں کیا۔ افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان کے ایک پاور پلانٹ میں کام کرنے والے سات ہندوستانی انجینئرس کو مئی 2018ء میں اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک یرغمال کو مارچ میں رہا کردیا گیا، لیکن دیگر کا حشر بدستور نامعلوم رہا۔ رہا شدہ یرغمالیوں کی شناختوں کا عسکری گروپ نے انکشاف نہیں کیا ہے۔ عہدیداروں نے کہا کہ آزاد کردہ طالبان قائدین میں شیخ عبدالرحیم اور مولاوی عبدالرشید شامل ہیں جو شورش پسند گروپ کے گورنرس کے طور پر کام کرچکے ہیں جب طالبان نظم و نسق ہوا کرتا تھا جسے 2001ء میں امریکہ زیرقیادت فورسیس نے معزول کردیا تھا۔ طالبان عہدیداروں نے ایک فوٹو اور فوٹیج فراہم کیا کہ آزادہ کردہ عسکریت پسندوں نے اپنی رہائی کے بعد استقبال پر کیا کہا ہے۔ افغان یا ہندوستانی حکام کی طرف سے فوری کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی خصوصی قاصد برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر کی زیرقیادت طالبان نمائندوں کے درمیان ملاقاتوں کے بعد رہائی عمل میں آئی ہے۔