’’فیملی فیس ‘‘سے سعودی عرب میں تارکین وطن پریشان

ریاض ۔ 7 اکٹوبر(سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں 2017ء میں تارکین وطن کے اہل خانہ پر ماہانہ فیملی فیس عائد کی گئی، جسے مرافقین فیس کا نام دیا جاتا ہے۔اس فیس میں کسی غیر ملکی شخص کی بیوی یا خاوند، بچے اور والدین شامل ہیں۔ اس ماہانہ فیس کے عائد ہونے کے بعد لاکھوں غیر مْلکی وطن واپس جا چکے ہیں کیونکہ مرافقین فیس کی ہر ماہ ادائیگی کم آمدنی والے تارکین وطن کے بس کی بات نہیں تھی۔2017ء میں مرافقین فیس کا آغاز 100 ریال ماہانہ سے کیا گیا، جسے 2018ء میں بڑھا کر 200 ریال ماہانہ پھر اس کے بعد 2019ء میں بڑھا کر 300 ریال ماہانہ کر دیا گیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق یہ فیملی ویزا فیس ادا کرنے والے تارکین وطن کی مالی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ 2020ء کے آغاز میں تارکین کو اپنے ساتھ مقیم اہلِ خانہ کے ہرفرد کے لیے 400 ریال ماہانہ ادا کرنا پڑیں گے جو کہ سالانہ 4800 ریال بنتے ہیں۔اس حساب سے اگر ایک شخص اپنے دو بچوں اور بیوی کے ساتھ مقیم ہے تو اسے ان تینوں افراد کے لیے مجموعی طور پر 1200 ریال ماہانہ ادا کرنا پڑیں گے جو کہ سالانہ 14,400 ریال بن جائیں گے۔ ایک متوسط اور کم آمدنی والے ملازم کے لیے اتنی بڑی رقم کی ادائیگی انتہائی مشکل ہوگی۔