نوبل انعام کے لئے دو افریقی مسلم عورتیں نامزد

نوبل انعام کے لئے دو افریقی مسلم عورتیں نامزد

کیونکہ2018تک صرف بارہ نوبل انعام یافتہ گان مسلمان تھے

اس سال نوبل انعام یافتہ گان حاصل کرنے والوں میں سومالیائی سماجی جہدکار الواد ایلمان اور لیبیائی لاء اسٹوڈنٹ حاجر شریف بھی شامل ہیں

دونوں سابق یو این سکریٹری جنرل کوفی عنان کے انتہائی مشترکہ اقدام کا حصہ تھا جس نے دنیا بھر سے 10نوجوانوں کو ایک ساتھ لانے کاکام کیاتھا۔کیونکہ2018تک صرف بارہ نوبل انعام یافتہ گان مسلمان تھے‘

اکسویں صدی کے نصف سے زیادہ کا وقت ہے۔ بارہ میں سے سات کونوبال امن انعام سے نوازا گیا ہے‘ جبکہ تین کو سائنس کے لئے اعزاز دیاگیا ہے۔

فزیکس میں 1979کا نوبال انعام حاصلکرنے والے میں عبداسلام تھا جو پاکستان کی احمد کمیونٹی کا رکن تھا۔ سال2015میں کمسٹری میں نوبل انعام حاصل کرنے والوں میں عزیز سانکار ترکی کے دوران انعام یافتہ گان تھے جنھیں ملوی کیولر بائیولوجی میں انعام دیاگیاتھا

حاجر شریف
سال2011سے لیبیاء میں امن کے لئے شریف جدوجہد کررہی ہیں اس وقت انہو ں نے خطرناک خانہ جنگی کے مناظر دیکھے تھے۔

جو بھی دیکھا تھا اس سے مایوس شریف نے اسی سال میں جب وہ 19سال کی تھیں اپنی ایک تنظیم کی شروعات کی جس کے ذریعہ پرامن جمہوری تحریک ٹوگیدر وی بیلڈ اٹ کا آغاز کیاگیا۔

مذکورہ تنظیم کا مقصد لیبیائی معاشرے میں خواتین او ر نوجوانوں کو خود مختار بنانا تھا۔

سال2013میں شریک 1325نٹ ورک پراجکٹ کی ساتھی شراکت دار بنی لیبیا کے تیس شہروں میں تنظیمو ں اور جہدکاروں کا مجموعہ اکٹھا کیاتھا جس کے ذریعہ محفوظ سوسائٹیوں کی تعمیر میں خواتین کے رول پر شعوربیداری چلائی۔

فی الحال وہ لاء کی تعلیم حاصل کررہی ہیں

الواد ایلمان
درحقیقت الواد ایلمان کا تعلق سومالیہ کے موگادیشو سے ہے‘ جو ایسے والدین کے گھر پیدا ہوئی ہیں جو امن او رانسانیت کی خدمات کاموں میں خود کومصروف کررکھا ہے جن کے نام فارتوم عدن اور ایلمان علی احمدہیں۔

وہیں ان کی والدین ان کے علاوہ دو بہنوں کو کینڈا میں پنہ دی گئی ہے جبکہ ان کے والد کو 1990اور ابتدائی2000کے دہے میں جنگ کے فوری بعد نوجوانوں کی بازآبادکاری اور انسانیت کی خدمت امن کے کاموں ملوث ہونے کی وجہہ سے قتل کردیاگیاتھا۔

سال2010کے دوران 19سال کی عمر میں صومالیہ واپسی پر ایلمان اپنے والد کے کام کو برقرار رکھتے ہوئے صومالیہ میں خواتین کے حقوق اور انسانیت دونوں کے لئے انتھک کام کرنا شروع کردیا اور ملک میں امن کے لئے مضبوط مہم چلانے والوں کے طور پر اپنا منفرد پہنچان بنائی۔

ایلمان کے صومالیہ میں کاموں میں کئی اہم کامیابیوں میں سے ایک صومالیہ کا پہلا عصمت ریزی بحران سنٹر قائم کرنا ہے تاکہ صنفی تشدد او ربدسلوکی کے متاثرین کے کام کیاجاسکے