نیویارک میں عمران کی ’حرکتوں‘ پر پرنس محمد ناخوش

نیویارک میں عمران کی ’حرکتوں‘ پر پرنس محمد ناخوش

سعودی ولیعہد نے پاکستانی وزیراعظم کی سہولت کیلئے دیئے گئے جیٹ کو واپس لے لیا

اسلام آباد ۔ 7 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نیویارک میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بعض سرگرمیوں سے اس قدر ناراض ہوئے کہ انھوں نے بتایا جاتا ہے کہ اپنے پرائیویٹ جیٹ سے پاکستانی وفد کو نکال باہر کرنے کا حکم دیتے ہوئے عملاً پاکستانی لیڈر سے بے التفائی برتی ہے ۔ پرنس سلمان نے وزیراعظم عمران کو اپنا خانگی جیٹ طیارہ امریکہ کے ایک ہفتہ طویل سفر اور وہاں گزشتہ ماہ نیویارک میں منعقدہ یو این جنرل اسمبلی کے 74 ویں سیشن میں شرکت کے لئے دیا تھا ۔ عمران ریاض گئے تھے جہاں انھوں نے ولیعہد سے بات چیت کی اور اُس کے بعد امریکہ روانہ ہوئے ۔ یہ بتایا گیا کہ خصوصی جیٹ میں کچھ تکنیکی خرابی پیدا ہوئی جبکہ عمران خان 28 سپٹمبر کو نیویارک سے اسلام آباد واپس ہورہے تھے، جس پر مجبوراً وزیراعظم اور اُن کے وفد کو نیویارک لوٹ جانا پڑا اور پھر کمرشیل فلائٹ کے ذریعہ وہ پاکستان واپس ہوئے۔ تاہم ہفتہ وار اخبار ’دی فرائیڈے ٹائمس‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کراؤن پرنس نے طیارہ واپس طلب کرلیا کیونکہ وہ عمران خان کی بعض باتوں اور حرکتوں سے ناخوش ہوئے ۔ ناقابل توضیح انداز میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان پاکستانی وزیراعظم کی نیویارک میں ڈپلومیسی کے بعض پہلوؤں سے الگ تھلگ ہوگئے کیونکہ عمران خان ، ترکی کے رجب طیب اردوغان اور ملیشیاء کے مہاتیر محمد کی جانب سے اسلامک بلاگ کی کی مشترکہ نمائندگی کیلئے منصوبہ بندی پر وہ ہرگز خوش نہیں ہوئے ۔ نہ ہی پاکستان کا اُن کی رضامندی کے بغیر ایران کے ساتھ ربط ضبط اُنھیں پسند آیا اور اُنھوں نے ظاہرطورپر اپنے پرائیویٹ جیٹس سے پاکستانی وفد کو نکال دینے کا حکم دیتے ہوئے عمران خان سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم پاکستان نے اخبار کی اس رپورٹ کو بالکلیہ من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ حکومت کے ترجمان نے گزشتہ روز یہاں ایک بیان میں بتایا کہ یہ بالکلیہ جھوٹ اور سچائی سے قطعی عاری رپورٹ ہے ۔ جمعہ کو شائع شدہ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ عمران خان کے سفر کے دوران کچھ نادانستگی میں کی گئی حرکتوں کا بھی اثر ہوا ۔